نئی دہلی،21؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتہ کے روز کہا کہ سرحدی معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد چین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات ”انتہائی مشکل مرحلے“سے گزر رہے ہیں - جے شنکر نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد کی صورتحال تعلقات کی صورتحال کا تعین کرے گی-
وزیر خارجہ نے یہ بات میونخ سکیورٹی کانفرنس (ایم ایس سی)2022کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی- ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو چین کے ساتھ مسئلہ ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ 1975سے45سال تک سرحد پر امن تھا، بارڈر مینجمنٹ مستحکم تھی، کسی فوجی کی جان نہیں گئی-
انہوں نے کہاکہ اب یہ بدل گیا ہے کیونکہ ہم نے چین کے ساتھ سرحد یا لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر فوجی دستے تعینات نہ کرنے کے معاہدے کیے تھے لیکن چین نے ان معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے-جے شنکر نے کہاکہ قدرتی طور پر سرحدی صورتحال تعلقات کی حیثیت کا تعین کرے گی-انہوں نے کہا کہ جون2020سے پہلے بھی تعلقات کافی بہتر تھے-
خیال رہے کہ پینگونگ جھیل کے علاقوں میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد مشرقی لداخ میں ہندوستانی اور چینی فوجوں کے درمیان سرحدی تعطل شروع ہو گیا تھا اور دونوں اطراف نے آہستہ آہستہ اپنی فوجوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا-15جون2020کو وادی گلوان میں پرتشدد تصادم کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا-
وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ہندوستان کی صلاحیتوں اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے- جے شنکر نے ایم ایس سی میں ہند-بحرالکاہل پر ایک بحث میں حصہ لیا، جس کا مقصد یوکرین پر نیٹو ممالک اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر وسیع بات چیت کرنی ہے-
یہاں جے شنکر نے دیگر وزرائے خارجہ اور کانفرنس میں شریک دیگر مندوبین کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں - جے شنکر نے اپنے دورہ جرمنی کے دوران یورپ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں کے وزرا کے ساتھ بھی کئی ملاقاتیں کیں -